ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اکھلیش سے ہاتھ ملا کر کانشی رام کی تاریخ دہرا رہی ہیں مایاوتی؟

اکھلیش سے ہاتھ ملا کر کانشی رام کی تاریخ دہرا رہی ہیں مایاوتی؟

Tue, 06 Mar 2018 12:04:57    S.O. News Service

لکھنؤ،05؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)1991کی شروعات میں جنتا د ل کی تحلیل کے بعد یوپی میں سماجوادی پارٹی کے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا۔کچھ مہینے بعد عام انتخابات میں پی۔وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں مرکز میں کانگریس حکومت کی واپسی ہوئی۔جبکہ یوپی میں کلیان سنگھ کی قیادت میں پہلی مرتبہ بی جے پی کی حکومت بنی۔انہیں دنوں جنتا دل سے ٹوٹ کر سماجوادی جنتا پارٹی بنی۔اس کے لیڈر چندر شیکھر تھے۔وہ بی جے پی کو چیلنج دینا چاہتے تھے لیکن ملائم سنگھ یادو کے مختلف منصوبے تھے۔اٹاوہ میں لوک سبھا انتخابات کے دوران جم کر تشد ہوا تھا۔چناؤ میں گڑ بڑی کے الزام لگے تھے۔لہذا 1991میں یہاں ضمنی انتخابات کرائے گئے۔اس سیٹ پر ملائم سنگھ یادو کی طوطی بولتی تھی۔لیکن یہاں انتخابات میں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی آمنے سامنے تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سیٹ کے ذریعے بی ایس پی کے بانی کانشی رام بھی قومی سیاست میں آنے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے بھی یہاں ضمنی انتخابات کیلئے پرچہ بھرا۔اس الیکشن کو یاد کرتے پوئے ملائم کے ایک قریبی نے کہاکہ ووٹنگ کے دن ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ایجنٹ بی ایس پی کیلئے ووٹ مانگ رہے تھے۔ہمارے بستے پر ہاتھی کے ووٹ پڑ رہے تھے۔واضح ہو کہ کئی مرتبہ کوشش کرنے کے بعد کانشی رام پہلی مرتبہ لوک سبھا پہنچے تھے۔اس درمیان ملائم سنگھ یادو کا او بی سی ،دلت اور مسلم ووٹ بینک کا استعمال کامیاب رہا۔
 


Share: